پرانے افسانے۔ ای بک

\

ایک لکھاری کے طور پر میرا تحریری عمل ہمیشہ ایک سفر کی مانند رہا ہے۔ ایک اجنبی مسافر کی پیادہ پا ریاضت جس میں گو کہ ہم تنہا ہوتے ہیں لیکن راستے کی ہر شے ہم سفر ہوتی ہے۔سب راہ رو۔ سب جاندار، سب نظارے ، احساس، آوازیں اور خیال ۔ یہ سفر آگاہی کے لمحات سے پر ہوتا ہے لیکن سب ہی کچھ گویا کہانی کا پس منظر ہے۔ پیش منظر میں خاموشی ہے۔

 

پرانے افسانے

پرانے افسانے ۔ ان چند کہانیوں پرمشتمل ہے جو میں نے کئی سال پہلے اپنے زیادہ تجرباتی تحریری منصوبوں کی ناکامیابیوں کے درمیانی وقفوں کی خاموش مشقوں کے دوران لکھے تھے۔ آن لائن یہ پہلے سے مختلف ویب سائٹ اور ویب میگزین میں شائع ہو چکےہیں ۔ پھر میرے اپنے بلاگ پر یہ وقت کےساتھ دوسری پرانی، وقتی و واقعاتی غیر سنجیدہ تحاریر کے درمیان گم ہو کر ذہن سے محو گئے ۔
Continue reading “پرانے افسانے”

انسانی دل کی رجائیت

ٹاٹینک ڈوبنے کی سوویں برسی پر

ہم انسانی دل کی رجائیت پر نظر ثانی کرتے ہیں

از: لارا براؤن لاووی

 
کیا مسئلہ ہے؟ آج صبح ٹائی ٹینک نے مجھے اپنے تمام بکھرے کھلےصندوقوں سمیت سمندر کی تہ میں لیٹا دیکھ کر پوچھا۔
 
معلوم نہیں۔ میں نے آہ بھری۔  نیشنل جیوگرافک پڑھتے تمہاری کچھ تصویریں نظر سے گزریں تو سوچا چلو کچھ بات کرتے ہیں۔  بائی دا وےتم زبردست لگ رہی تھیں۔ اپنی تصویروں میں۔
 
میں؟ او نہیں۔ ٹائیٹینک کی مسکراہٹ بکھری۔ میں تو اب بس ایک پکاسو  ہوں۔ اور میری تو داڑھی بھی ہے۔
 
یہ سچ تھا۔ وہ جہاز کا ایک تصویری مجلہ ہی دِکھتا تھا۔ عجب دو جہتی، اپنے ہی کھودے گڑھے میں دھنسا۔ فرانسیسی دروازے، بوائلر، ہر سمت جنگلے۔ اور واقعی اس کی کچھ داڑھی بھی تھی۔ اس کے لوہے کے انجن پر زنگ کی جھولتی سرخ لڑیاں۔
 

اپنے چھوٹے سے گڑھے میں اٹھ بیٹھتے ہوئے میں کچھ خجل ہوئی۔

 

 

 

اپڈیٹ: 

یہ تحرير اور دوسرے افسانے پڑھنے کے لیے ذیل میں کتاب کا ڈاؤنلوڈ لنک دیکھیں ۔

_______________

پرانے افسانے

رافعہ خان

 

ایک کتاب

مجھے کتابیں اچھی لگتی ہیں۔ ان کو پڑھنا اور ان کو لکھنا۔ مجھے لگتا ہے دنیا میں اگر کوئی کرنے کا کام ہے۔ تو یہی ہے۔ لیکن افسوس کہ میں اس میں ذرا بھی ماہر نہیں ہوں۔ نہ پڑھنے میں نہ سمجھنے میں اور لکھنے میں تو بالکل نہیں۔ 
 
لیکن ایک کتاب ایسی ہے کہ جس کو پڑھ کر میرا شدت سے جی چاہتا ہے۔ کاش مجھے صرف یہ ایک کتاب پڑھائی جاتی۔ کاش میں اسکو سمجھتی اس کا علم پاتی اور پھر کچھ ایسا لکھتی جو کتاب کہلاتا۔ 
 

یہ تحرير اور دوسرے افسانے پڑھنے کے لیے کتاب کا ڈاؤنلوڈ لنک دیکھیں ۔

پرانے افسانے

رافعہ خان

ایلس

”فورایور ٹوینٹی ون۔“ میرے ایک پسندیدہ سٹور کا صفحہ سامنے ہے۔میں نے شرٹس کے نئے رنگ دیکھے ۔ پھر میک اپ کےسٹور پر لپ اسٹکس کے شیڈز دیکھے ۔اگلے صفحے پر نئے ڈیزائینر ہینڈ بیگ دیکھ کر میری آنکھوں کی چمک بڑھ گئی۔ آنلائن شاپنگ میں چیزوں کے رنگ ۔ فیشن۔ سٹائل سب کچھ بالکل اپ۔ ٹو ڈیٹ ہوتا ہے آنکھیں بند کر کے بھی اٹھاؤ تو غلطی کا امکان کم ہے ۔ سٹورز میں تو کبھی کام کی چیز نہیں ملتی اور یہاں تو انتخاب ہی مشکل ہو جاتا ہے۔
میں اپنی کارٹ میں دیر تک ایک ایک کر کے چیز یں ڈالتی نکالتی رہی۔ پھر میں نے حتمی فیصلہ بعد پر چھوڑ دیا۔ ایک سیکشن سے دوسرے سیکشن میں جاتے جاتے مجھے وقت کا اندازہ کبھی نہیں ہوا بس اچانک احساس ہوا کہ کافی کا کپ کب کا ٹھنڈا ہو چکا ہے۔ اور سائیلنٹ پر کیے فون پر مس کالز کی تعداد چھ ہو چکی ہے۔ ناک پر ڈھیلے ہوتے گلاسز کو انگلی کی پور سے اوپر سرکاتی دور سے آتی جانی پہچانی گھنٹی کی آواز سن کر میں اچانک چونکی ۔
_________
انٹرنیٹ فورمز کے پس منظر میں لکھا گیا۔
تمام کردار اور واقعات فرضی ہیں۔

اپڈیٹ: 

یہ تحرير اور دوسرے افسانے پڑھنے کے لیے ذیل کی پوسٹ میں کتاب کا ڈاؤنلوڈ لنک دیکھیں ۔

_______________

پرانے افسانے

رافعہ خان

 

 

کمیونیکیشن گیپ

ویسے تو جس ساحلی علاقے میں میں مقیم ہوں درختوں کی کثرت کی وجہ سے حبس زدہ گرم دنوں میں یہ عام سی بات ہے۔۔ سانس کا لمحے دو لمحے کے لیے رک جانا۔ لیکن بات وہ نہیں ہے ۔۔ گرم دن ابھی شروع نہیں ہوئے۔ بات اصل میں کیا ہے مجھے سمجھ نہیں آیا۔
 
آج میرے بیٹے کو گولڈ میڈل ملنا تھا۔ یہاں جس جگہ میں رہتی ہوں ہر موقع کو ایک بڑا موقع بنا لیتے ہیں۔ خود ہی سٹیج سجاتے ہیں، ایک دوسرے کی مدد سے انعامات اکھٹے کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو بانٹ دیتے ہیں۔ اس سب کو وہ حوصلہ افزائی کہتے ہیں۔۔ کردار سازی کا کام۔
 
بس ایسی ہی کچھ زندگی ہے یہاں کی۔ ایک بات کی پڑتال کی۔ نتائج اخذ کیے پھر اپنی زندگیوں کو اس کے گرد بن لیا۔ اگر نتائج غلط ثابت ہوں تو اسے پیچھے چھوڑ کر کسی نئے مرکزی خیال کو جینا شروع کر دیا۔ ایسے میں کبھی پلٹ کر وہیں پہنچ جاتے ہیں جہاں سے سفر شروع ہوا تھا۔ اس کو وہ زندگی کے تجربے کا نام دیتے ہیں۔

اپڈیٹ: 

یہ تحرير اور دوسرے افسانے پڑھنے کے لیے ذیل کی پوسٹ میں کتاب کا ڈاؤنلوڈ لنک دیکھیں ۔

_______________

پرانے افسانے

رافعہ خان