Category: دریچوں میں جگنو
دریچوں میں جگنو
میری نئی کتاب دریچوں میں جگنو پرسکوت اندھیرے سے پرسکون روشنی تک کے سفر کا احوال ہے۔ خیال کے سفر میں سمجھنے اور پرکھنے کے دوران غلطی کا امکان موجود رہتا ہے۔ لیکن لکھے ہوئے لفظوں میں روشنی کی تلاش حیات بخش ہے۔ شائد ان لفظوں کو پڑھتے ہوئے آپ کی راہ بھی کچھ دیر کے لیے منور ہو جائے۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ نے پڑھنے کے لیے اس کتاب کا انتخاب کیا۔ اللہ کرے آپ کا اور کتاب کا رشتہ ہمیشہ قائم رہے۔
رافعہ خان
۱۴ اگست ۲۰۲۳
کتاب ایپل بک سے ڈاؤنلوڈ کریں
Download From Apple Books
متروك

مجھے یقین ہے میرے گھڑیال کے گھنٹے بے ترتیب ہوچکے ہیں
اور بہت دنوں سے میں غلط کتابوں کا مطالعہ کر رہی ہوں
جن میں انجانے جذبوں کے بارے میں غیر حقیقی باتیں لکھی ہوئی ہیں
خبروں میں کسی اور دنیا میں ہونے والے
غیر اہم واقعات کی جعلی تفصیلات بیان کی جارہی ہیں
راستوں پر ناواقف اجنبی چہروں والے لوگ چل پھر رہے ہیں۔
مکمل نظم کے لیے کتاب دیکھیں
دریچوں میں جگنو
رافعہ خان
“پہلی بات ہی آخری تھی”
میں نے آج کچھ بھی نہیں لکھا۔
کل سے آسمان پر کوئی چاند ستارہ نہیں جگمگایا
آج تو سورج بھی نہیں نکلا۔
شائد فضائی آلودگی ہے یا دھند یا پھر بارش کی دھمکی
جو بھی کچھ ہے پر کشش نہیں ہے
یہ نظمیں آئینہ نہیں ہیں

یہ نظمیں آئینہ نہیں ہیں
کہ ان میں ہمارے جذبوں کے رخساروں پر بکھرے
رنگوں کے عکس نکھریں
نہ ٹہرا ہوا پانی کہ گہرائی میں جھانکیں تو ہمارے ہی چہرے
اک تابندہ جھلملاہٹ کی لو میں لرز رہے ہوں
مگر شائد آسمان سے ٹوٹ کر گرتے ستارے
مکمل نظم کے لیے کتاب دیکھیں
دریچوں میں جگنو
رافعہ خان
کہو کیا کہنا ہے

ترجمہ: آ سٹوری ود آوٹ آ بیگننگ ، مڈل اور اینڈ ۔
کہو کیا کہنا ہے
نئی منزل کا قصد ہے؟؟چلو پھر
آج صرف تمہیں سنوں گی۔ آج تمہارا دن ہے۔۔
ہاں میں یہیں ہوں۔۔ سن رہی ہوں۔
کام جاري ہے
امکان کی بارگاہ میں
بے ترتیب ہنگام کا بے توازن رقص
خود شناسائی کی بے کار لے پر ڈولتے
بے مقصد موھوم امیدوں کے پیر
۔عدم کے صحن میں
مستحکم تضادات اور دکھ دیتی ادھورگی
تکمیل کی داستان بننے کا
فطرت کاایک اپنا ہی طور ہے۔
مکمل نظم کے لیے کتاب دیکھیں
دریچوں میں جگنو
رافعہ خان
بصیرہ عنبرین۔۔ یہ سچ مچ تم ہو یار بہت زیادہ خوشی ہوئی تم کو یہاں پر دیکھ کر۔ اور میں…
رافعہ خان آج بھی اتنا اچھا لکھ رہی ہیں جیسا کہ شروعات میں لکھ رہی تھیں۔ ماشاءاللہ
یہ کتاب بہت اچھی ہے۔رافعہ کی پہلی کتاب کی طرح۔کیا مصنفہ کا اصل نام رافعہ وحید یے۔
'A blessing cannot be saved.' Aptly put. Jo buray waqt kay liye jama' karay ga, uss par bura waqt aaye…
"ابھی ویسے ایسے لگ رہا ہے کسی نے جلدی میں انقلاب کا ڈبہ کھولتے ہوئے اسے فرش پرگرا دیا ہے"كمال…
میجیکل!!!!کم الفاظ میں اتنا خوبصورت لکھنا، بہت کم لوگوں کے پاس صلاحیت ہوتی ہےلکھتی رہئیے :)
ماشاءاللہ کافی اچھا لکھ لیتی ہو آپ۔ آپ جس طرز کا لکھتی ہو بہت خوب اور عمدہ لکھتی ہو لیکن…
سوائے اس کے کچھ اور نہیں کہا جا سکتا کہ "بہترین"۔۔۔ اور "بہت ہی عمدہ"۔۔۔
بہت خوب۔۔۔ آپکی پچھلی تحریر بھی کُچھ طویل ہونے کے باوجود پڑھ کر مزہ آیا اور یہی حال اس مرتبہ…
محترمہ رافعہآپ کا بلاگ بہت سنجیدگی سے پڑھا جاتا ہے، اور آپ کی تحریر کا انتظار بھی رہتا ہے-بہت شکریہ