بارشیں

بچپن میں مجھے بارشیں بہت اچھی لگتی تھیں۔ مجھے بارش میں نہانا بہت پسند تھا۔ اس کی ایک وجہ تو میرا بچپنا تھا۔ دوسرا تب سارے اکھٹے تھے تو ایک طرح سے جنگل میں منگل بھی ہوجاتا تھا۔ پھر شائد موسم کا بھی کچھ اثر تھا۔ سخت گرمی میں اچانک اٹھنے والی مٹی بھری ہوا کی مہک، پھر ہواکا ایکدم تیز ہوجانا اور گھنے بادلوں کا دن میں اندھیرا کرنا۔ جلتے ہوئے دن کا ایک پر فضا میں بدل جانا اچھا لگتا تھا۔ بارش سے چیزیں دھل جاتیں اور پودے زیادہ سبز لگنے شروع ہوجاتے۔ ماحول صاف ہوجاتا اور مجھے بارش کے رحمت ہونے احساس اندر تک چھو لیتا۔

Continue reading “بارشیں”

مجھے کچھ اور کہنا تھا

ایسا کئی مرتبہ ہوتا کہ ہم اپنے پروگرام کو کسی طرح ترتیب دیتے ہیں۔ ہمیں سب پتہ ہوتا ہے کہ ہم اس روز کیا کھائیں گے۔ اور کیا پہنیں گے اور کس سے ملیں گے اور کس سے کیا بات کریں گے۔ لیکن ہمارا دن کسی اور ڈھب سے چڑھتا ہے۔ ہماری ملاقاتیں ہمارے آرگنائزر کی تفصیل کے برعکس کچھ اور لوگوں سے ہو جاتی ہیں۔ ہم اپنی ترجیحات کی فہرست کے برعکس کچھ اور کام شروع کر دیتے ہیں۔ ہم اپنا پکا پکایا کھانا چھوڑ کر کوئی الگ شے کھانا شروع کردیتے ہیں۔ ہم اپنی سوچی سمجھی تحریر کی جگہ کچھ اور لکھنے لگتے ہیں۔ معلوم نہیں ہم کبھی کبھی اپنے سوچے سمجھے سیدھے صاف اور آسان سے پلان کی بجائے اپنی زندگی کو ایسے پیچیدہ کیوں کر لیتے ہیں۔

Continue reading “مجھے کچھ اور کہنا تھا”

شک کا فائدہ

ذاتی طور پر شکوک و شبہات کی حوصلہ افزائی کرنے کو ورک آف آرٹ سمجھنا چاہتی ہوں۔ کیونکہ پھر میں کسی شرلاک ہومز کی طرح میں ایک عام سی بات کے نہ نظر آنے والے پہلوؤں کو سوچ کر اور اس میں بہت سی رنگ بازی ڈال کر اور واقعات کو مبالغے کی انتہا تک پہنچا کر میں ایک پوری فرضی کہانی ترتیب دے سکتی ہوں۔ ایک مصنف کے حساب سے یہ میرے فن کے اظہار کا نادر موقع بن سکتا ہے۔ ہے نا؟

Continue reading “شک کا فائدہ”

کچھ کہیے

کچھ تو کہیے کہ لوگ کہتے ہیں آج غالب غزل سرا نہ ہوا

ویسے تو ایک لکھاری لان میں پھرنے والے خرگوشوں اور چپ منک کی طرح خاموشی سے اپنی خفیہ حرکتوں میں مشغول رہتے ہیں اور ان کی کارروائی کا اس وقت تک علم نہیں ہوتا جب تک وہ راتوں رات آپ کے پودوں کو اچھی طرح اجاڑ نہ دیں۔ نہیں میرا مطلب ہے جب تک ان کی کوئی تحریر کسی اچھی سی شکل میں ٓاپ کےسامنے نہ آجائے ۔لیکن میں لکھاری کی بات نہیں کررہی جس کو ہمیشہ کچھ نہ کچھ کہنا ہوتا ہے خواہ کوئی سنے یا نہ سنے۔

ایک چپ سو سکھ Continue reading “کچھ کہیے”

سچ ادھورا ہے ابھی۔ ای بک

سچ اَدُھورا ہے ابھی میری نثری شاعری کا دوسرا مجموعہ تھا۔ اس سے پہلے اس کتاب کے دو تجرباتی ایڈیشن وجود میں آچکے ہیں۔ یہ تیسرا ایڈیشن میں نے ایپل بک کے سسٹم کو سمجھنے کے لیے تیار کیا ہے، شاعری وہی پرانی ہے۔

پہلے دو ایڈیشنوں کے ابتدائیے میں نے اس میں سے حذف کر دیے ہیں ۔ سوائے اس اعتراف کے جو پہلے ایڈیشن سے اب تک ویلڈ ہے کہ:۔ ”اس دوسرے قدم کا سچ ابھی تک اَدُھورا ہے۔ کیوں؟ معلوم نہیں۔ شائد میرے ہاتھوں پہ لگے دھبوں کی وجہ سے۔ یا حقیقت کا ویژن دکھانے والی سکرین پر پھیلی دھند کی وجہ سے۔“ مگر اس دفعہ سالوں پہلے کیے اس اعتراف میں اخلاص کی بجائے شرمندگی کا عنصر شامل ہے۔
کتاب پڑھ کر اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔ اور اگر آپ نے یہ کتاب پہلے سے پڑھ رکھی ہے تو کونسی نظم آپ کو اچھی لگی۔

کتاب یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

سچ ادھورا ہے ابھی 

__________
رافعہ خان

پرانے افسانے۔ ای بک

\

ایک لکھاری کے طور پر میرا تحریری عمل ہمیشہ ایک سفر کی مانند رہا ہے۔ ایک اجنبی مسافر کی پیادہ پا ریاضت جس میں گو کہ ہم تنہا ہوتے ہیں لیکن راستے کی ہر شے ہم سفر ہوتی ہے۔سب راہ رو۔ سب جاندار، سب نظارے ، احساس، آوازیں اور خیال ۔ یہ سفر آگاہی کے لمحات سے پر ہوتا ہے لیکن سب ہی کچھ گویا کہانی کا پس منظر ہے۔ پیش منظر میں خاموشی ہے۔