Month: April 2022
الہ دین کے چراغ کا جن

واقعات اور حالات ہمیشہ ویسے نہیں رہتے جیسے ہم سوچتے ہیں کہ رہیں گے۔ جانی پہچانی کہانیاں بھی ایک مختلف رخ اختیار کر سکتی ہیں۔ دراصل کہانیوں کو مختلف رخ سے سوچنا بھی ایک لحاظ سے ہمیں ہر طرح کے حالات سے گزرنے میں مدد دیتا ہے۔ مثلا کیا ہو اگر الہ دین کی زندگی اتنی نہ ہو جتنی عموما ہوتی ہے جن ابھی ابھی چراغ سے باہر نکلا ہو اور کیا حکم ہے میرے آقا ہی کہ پایا ہو۔چراغ کہیں ادھر ادھر لڑھک گیا ہو۔
watching movie with a friend

Did I miss something, Commander? I thought we just saved the dock.
Lock: That’s the problem with you people. You can’t think for five minutes in front of your face. That EMP knocked out almost every piece of hardware and every APU. If I were the machines, I would send every Sentinel I had here right now. Saved the dock, captain? You’ve just handed it to them on a silver platter.
تو تمہارا خیال ہے ہمیں مسٗلے میں دیکھ کر ماہرین اور مقتدر ادارے خود بخود چیزوں کو ہمارے لیے سہل کردیں گے
بصیرہ عنبرین۔۔ یہ سچ مچ تم ہو یار بہت زیادہ خوشی ہوئی تم کو یہاں پر دیکھ کر۔ اور میں…
رافعہ خان آج بھی اتنا اچھا لکھ رہی ہیں جیسا کہ شروعات میں لکھ رہی تھیں۔ ماشاءاللہ
یہ کتاب بہت اچھی ہے۔رافعہ کی پہلی کتاب کی طرح۔کیا مصنفہ کا اصل نام رافعہ وحید یے۔
'A blessing cannot be saved.' Aptly put. Jo buray waqt kay liye jama' karay ga, uss par bura waqt aaye…
"ابھی ویسے ایسے لگ رہا ہے کسی نے جلدی میں انقلاب کا ڈبہ کھولتے ہوئے اسے فرش پرگرا دیا ہے"كمال…
میجیکل!!!!کم الفاظ میں اتنا خوبصورت لکھنا، بہت کم لوگوں کے پاس صلاحیت ہوتی ہےلکھتی رہئیے :)
ماشاءاللہ کافی اچھا لکھ لیتی ہو آپ۔ آپ جس طرز کا لکھتی ہو بہت خوب اور عمدہ لکھتی ہو لیکن…
سوائے اس کے کچھ اور نہیں کہا جا سکتا کہ "بہترین"۔۔۔ اور "بہت ہی عمدہ"۔۔۔
بہت خوب۔۔۔ آپکی پچھلی تحریر بھی کُچھ طویل ہونے کے باوجود پڑھ کر مزہ آیا اور یہی حال اس مرتبہ…
محترمہ رافعہآپ کا بلاگ بہت سنجیدگی سے پڑھا جاتا ہے، اور آپ کی تحریر کا انتظار بھی رہتا ہے-بہت شکریہ