غالب اور اقبال

ایک مفكر درحقیقت فلسفہ اور زبان دونوں کے ذریعے خیال کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتا ہےزبان ہمارے لیے ان ایوانوں کی کنجیاں مہیا کرتی ہے جو ابھی ہم پر آشکار نہیں ہوئے۔ اور فلسفی خیال کے ان مقامات پر رکنے کے لیے مکان تعمیر کرتے ہیں جہاں ابھی آباد کارہی نہیں ہوئی۔

جون ایلیا ۔۔ حالت حال کے سبب

 

 

حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی
شوق میں کچھ نہیں گیا شوق کی زندگی گئ

 

تیرے وصال کے لیے اپنے کمال کے لیے
حالت دل کہ تھی خراب اور خراب کی گئی

 

Continue reading “جون ایلیا ۔۔ حالت حال کے سبب”

لفظ ۔ ۔ ۔ ۔ موسیقی۔۔ لفظ

چڑھتا سورج ہے اپنا پاکستان

راحت فتح علی خان

 

منزل کی تقدیروں جیسے

خوابوں کی تصویروں جیسے

ہیں چاہت کی تحریروں جیسے

یہ پاکستانی بھی دل ہیں ایسے

دھڑکن دھڑکن گونچ رہی ہے اپنے وطن کے نام

چڑھتا سورج ہے اپنا پاکستان

دنیا دیکھ رہی ہے پاکستان کی شان

چڑھتا سورج ہے اپنا پاکستان

دنیا دیکھ رہی ہے پاکستان کی شان

 رکھ لے آنکھوں میں اپنے خواب جوان

چڑھتا سورج ہے اپنا پاکستان

دنیا دیکھ رہی ہے پاکستان کی شان

 

Continue reading “لفظ ۔ ۔ ۔ ۔ موسیقی۔۔ لفظ”

راہ زن، راہ براور راہ نمائی

ہم نے پہلے بھی بتایا تھا خانہ جنگی والا انقلاب ہمیں اچھا نہیں لگتا لیکن چیرمین کی سادگی سے دنیا کو ہمیشہ بہت امیدیں رہی ہیں۔ اور ہے بھی ایسا ہی۔ آدھی رات کو کوئی ایک ڈائری اٹھا کر اکیلا چلا آئے تو کسی بھی سادہ لوح کا دل دکھ جاتا ہے۔ پھر موسم، مسافت اور موسیقی کے اپنے اثرات ہوتے ہیں۔ ہجوم کا ہیجان بتدریج زور پکڑتا ہے۔ پھر عقل والوں کو غیر محسوس طریقے سے پس منظر کر دیا جاتا ہے۔۔ پیش منظر میں کچھ اور چلا دیا جاتا ہے۔۔

”ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں”

آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی
ہم جنہیں رسم دعا یاد نہیں
ہم جنہیں سوز محبت کے سوا
کوئی بت کوئی خدا یاد نہیں

چئیرمین پی ٹی آئی ایکسکلوسو پوڈکاسٹ

ایک بات سمجھ میں نہیں آرہی۔۔ یہ امر بالمعروف کا بلا تکان تڑکا کیوں لگایا جا رہا ہے جبکہ تقاضا آپکا” نامنظور “  ہے۔ یاد ہے جب آپنے برٹش کیس کی مثال دی جہاں پارلیمنٹیرینز کو زیادہ جرمانہ ہوا تھا۔۔ اور جہاں سکینڈینیوین شہری سڑک پر آپکو کاغذ پھینکنے پر ٹوکتا ہے اور جہاں نیوٹرل کو حق اور باطل میں تفریق کی تلقین کرتے ہیں .. جہاں آپ لاکھوں کے مجمع سے اپنی ایک پکار پر لبیک کہتے ہوئے علمِ احتجاج بلند کر نے کی امید رکھتے ہیں ۔ کیونکہ آپ اپنی آخری سانس تک ان لوگوں کے خلاف لڑنے کا عہد کرچکے ہیں۔۔۔اسے برائی کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا کہتے ہیں۔۔ ہاتھ سے اسے روکنا کہتے ہیں۔ امر بالمعروف نہیں کہتے۔۔۔   آپ صحیح الفاظ سے ناواقف یا خوفزدہ تو شائد نہیں ہیں۔۔ کیا آپ کنفیوز ہیں؟؟؟ 

سرجیکل سٹرائیک؟؟

#TO-RETALIATE-OR-NOT-TO-RETALIATE
#TO-BE…
#OR-NOT-TO-BE

الہ دین کے چراغ کا جن

واقعات اور حالات ہمیشہ ویسے نہیں رہتے جیسے ہم سوچتے ہیں کہ رہیں گے۔ جانی پہچانی کہانیاں بھی ایک مختلف رخ اختیار کر سکتی ہیں۔ دراصل کہانیوں کو مختلف رخ سے سوچنا بھی ایک لحاظ سے ہمیں ہر طرح کے حالات سے گزرنے میں مدد دیتا ہے۔ مثلا کیا ہو اگر الہ دین کی زندگی اتنی نہ ہو جتنی عموما ہوتی ہے جن ابھی ابھی چراغ سے باہر نکلا ہو اور کیا حکم ہے میرے آقا ہی کہ پایا ہو۔چراغ کہیں ادھر ادھر لڑھک گیا ہو۔