Month: March 2014
آج کون سا دن، ہفتہ، مہینہ ہے

آج کل تو روز ہی کوئی نہ کوئی دن، ہفتہ یا مہینہ ہوتا ہے۔ کبھی خطرے سے دوچار کسی جانور کے بارے میں لوگوں کو مطلع کرنے کے لیے دن مقرر کرتے ہیں تو کبھی کسی بڑے مسئلے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے۔ یعنی بات اب مقامی مذہبی تہواروں اور سماجی میلوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ان دنوں کی اپنی ایک بین الاقوامی تہذیب، تاریخ اور زندگی ہے۔۔۔ اب اگر ہمارے پاس بہت سا بے کار وقت اور تھوڑا سا اضافی بجٹ ہو تو ہم روز دنیا میں کسی نہ کسی کو ایک عدد فری آن لائن گریٹینگ کارڈ ڈال سکتے ہیں، روز کسی نا کسی چیز کی یاد میں اینیورسری کیک کاٹ سکتے ہیں۔ روز نئے کپڑے پہن کر کام سے جان چھڑا کر باہرگھومنے جا سکتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ وقت اور پیسا طرح طرح سے انسانی خوشیوں کے آڑے آ جاتا ہے۔ دوسرا تاریخیں یاد رکھنا ایک بہت ہی مشکل کام ہے۔ گو مجھے یہ بھی امید ہے کہ بہت جلد آٹو پارٹی نام کی ایپلیکیشن ڈاونلوڈ ہو سکے گی۔ کسٹمائز کرتے وقت یاد سے کیک کے سیکشن میں ہوم کی بجائے سٹور کلک کیجیے گا۔ اور بل والے میں پے لیٹر۔۔ اور ہاں کچھ خاص خاص لوگوں کے لیے ویری لو(مینیمم) بجٹ والی۔
بات سے بات نیز ہمارے بلاگ کون پڑھتا ہے؟
میں کچھ بور سی ہو کر کہتی ہوں تم لوگوں کے امتحانات کی وجہ سے کتنا کچھ لکھا نہیں جا رہا۔ جس پر دانت پیس کر میری بچی کہتی ہے امتحانات ہی کی وجہ سے تو کتنا کچھ لکھا جا سکتا ہے۔۔ جس پر میں اعتراض کرتے ہوئے کہتی ہوں یہ صحیح نہیں ہے تم ماں باپ کی تمہارے امتحانات کی فکر کو موضوع نہیں بنا سکتی۔ جس پر وہ آنکھیں گھما کر کہتی ہے وہ ایک تحریر ہی تو ہوگی اس کو پرسنل کیوں لینا۔ جس میں یقینا میری تقریروں کا مضحکہ اڑانے کی کوشش ہے اور تحریروں کا بھی۔ کیونکہ کچھ ہی عرصہ پہلے میں نے وہ نظم لکھی تھی جس کا عنوان تھا ا چائلڈز پلے۔جس کو پڑھ کر میرے بچوں نے کہا یہ بالکل فیٗر نہیں ہے۔ جس پر میں نے کہا یہ شاعری ہے بھائی۔۔ اور شاعری اور ڈائری کو پرسنل نہیں لینا چاہیے۔۔ Continue reading “بات سے بات نیز ہمارے بلاگ کون پڑھتا ہے؟” →
گوگل ٹرانسلیٹ

پچھلے روز ایک دوست نے، کہ اردو سمجھنا انہیں مشکل ہے، میری ایک تحریر کا ترجمہ پوچھا۔ میں نے مصروفیت کی وجہ سے گوگل ٹرانسلیٹ کی طرف اشارہ کیا۔ بعد میں استفسار پر کہنے لگیں یا تو یہ کوئی بہت گہری بات ہے یا ترجمہ میں کوئی مسئلہ ہے کیونکہ مفہوم میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ اب میرے لیےگہری بات کہ دینا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا کہ گوگل سے کسی غلطی کا احتمال۔ سو میں کچھ کنفیوژ سی ہوگئی اور خود چیک کرنے کی کوشش کی۔
بصیرہ عنبرین۔۔ یہ سچ مچ تم ہو یار بہت زیادہ خوشی ہوئی تم کو یہاں پر دیکھ کر۔ اور میں…
رافعہ خان آج بھی اتنا اچھا لکھ رہی ہیں جیسا کہ شروعات میں لکھ رہی تھیں۔ ماشاءاللہ
یہ کتاب بہت اچھی ہے۔رافعہ کی پہلی کتاب کی طرح۔کیا مصنفہ کا اصل نام رافعہ وحید یے۔
'A blessing cannot be saved.' Aptly put. Jo buray waqt kay liye jama' karay ga, uss par bura waqt aaye…
"ابھی ویسے ایسے لگ رہا ہے کسی نے جلدی میں انقلاب کا ڈبہ کھولتے ہوئے اسے فرش پرگرا دیا ہے"كمال…
میجیکل!!!!کم الفاظ میں اتنا خوبصورت لکھنا، بہت کم لوگوں کے پاس صلاحیت ہوتی ہےلکھتی رہئیے :)
ماشاءاللہ کافی اچھا لکھ لیتی ہو آپ۔ آپ جس طرز کا لکھتی ہو بہت خوب اور عمدہ لکھتی ہو لیکن…
سوائے اس کے کچھ اور نہیں کہا جا سکتا کہ "بہترین"۔۔۔ اور "بہت ہی عمدہ"۔۔۔
بہت خوب۔۔۔ آپکی پچھلی تحریر بھی کُچھ طویل ہونے کے باوجود پڑھ کر مزہ آیا اور یہی حال اس مرتبہ…
محترمہ رافعہآپ کا بلاگ بہت سنجیدگی سے پڑھا جاتا ہے، اور آپ کی تحریر کا انتظار بھی رہتا ہے-بہت شکریہ