کچھ باتیں ان کہی رہنے دو

`

کچھ باتیں ان کہی رہنے دو
کچھ باتیں ان سنی رہنے دو
سب باتیں دل کی کہہ دیں اگر
پھر باقی رہ جائے گا
سب باتیں ان کی سن لیں اگر
پھر باقی کیا رہ جائے گا
اک اوجھل بے کلی رہنے دو
اک رنگیں ان بنی دنیا پر
اک کھڑکی ان کھلی رہنے دو

منیر نیازی

تاریخ فردا پر ایک نظر۔۔ ڈاکٹر علی شریعتی





۔”تاریخِ فردا” ایک نیا انقلابی پیرائہ خیال ہے۔ کیونکہ تاریخ کو ہم ہمیشہ سے ماضی کا عکاس سمجھتے رہے ہیں۔ لیکن آج کی دنیا شائد اس بات کا ادراک کر چکی ہے کہ انسان کو اپنے ماضی ہی کی نہیں فردا کی تاریخ بھی لکھنی ہوتی ہے۔ اس خیال کو پہلے سمجھ لیا جاتا تو تاریخ بھی ایک حقیقی سائنس کے طور پر لی جاتی۔ لیکن اس کی قدر تبھی بڑھے گی اور ماضی کے انسان کا مطالعہ محض تبھی سود مند ہوگا اگر ہم اس سے اپنے آج اور کل کو سمجھنے میں مدد لے سکیں۔ ہرتہذیب اور معاشرے میں تاریخ ماضی کو افراد کی بجائے ادوار کے حوالے سے بیان کرتی ہے۔ گو ان ادوار میں انسانوں کے خیالات اور میلانات ہی اس دور کی خاص ہیئت کی توجیہ ہوتے ہیں لیکن اس دور کی مفرد خصوصیات اور مقاصد ہوتے ہیں جو اسے سابقہ ادوار سے ممتاز کرتے ہیں۔


سو اگر ہر دور کو ایک مخروط تصور کرلیا جائے تو اس تصور کی بنیاد ہر کسی بھی معاشرے کا بغور جائزہ لینے سے مستقبل کی پیش گوئی ممکن ہے۔ مخروط یا کون کا نچلا حصہ پھیلا ہوا ہوتا ہے اور بالائی تکون بتدریج کم ہوتی جاتی ہے۔ ہر معاشرے میں عام افراد کون کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور مفکر، علما، شعرا و ادباء اور فلسفیوں کا گروہ اس کا بلائی حصہ تشکیل دیتے ہیں۔ اس طرح معاشرہ کسی ایک عضو یا جسم یا فرد کی بجائے ایک خیال کے گرد گھومتا ہے۔ اور یہ بات انتہائی سادہ اور ابتدائی معاشروں سے لے کر آج تک ہر زمانے پر صادق آتی ہے۔ ابتدائی دور کے سفید ریش بزرگ اور وچ ڈاکٹرز کا گروہ ایسے ہی دانشور سمجھے جاسکتے ہیں جو اپنے معاشرے کی راہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتے رہے ہیں۔ اور یہی آج کے دور میں ہے( یعنی فوکس گروپ، تحقیقاتی ادارے اور نظریاتی بنیاد وغیرہ)۔


لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ بنیادی طبقوں اور دانشوروں کے ان گروہوں کے درمیان کوئی آڑ یا بندش نہیں ہے۔ لوگ بنیادی درجے سے کون کے اوپری حصہ تک ترقی پا سکتے ہیں اسی طرح دانشور عوام میں گھل مل سکتے ہیں۔ اس طرح ہر نئے دور کا عوامی حصہ پچھلے دور کے دانشور حصے سے وجود میں آتا ہے ان سے آگے ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر دور کے مفکر خیالات کو درجہ بدرجہ ترقی دیتے ہیں یہی خیالات، سائنس اور معاشرے کی ترقی ہوتی ہے۔ اگر مخروط کی بالائی سطح پر خاطر خواہ دانشور موجود نہ ہوں تو معاشرے میں عام آدمی کی سوچ میں تبدیلی کا عمل بھی خاطر خواہ نہیں ہوتا اور وہ اپنے پرانے اعتقادات اور خیالات سے آگے نہیں بڑھتے جب تک رفتہ رفتہ نئے خیالات معاشرے میں پنپنا شروع ہو جائیں۔اس طرح کبھی کبھی تہذیبیں ماضی کے ادوار کے دانشوروں کے قلیل گروہوں کی تلقید میں بنتی نظر آتی ہیں۔


ہر دور میں مخروط کی انتہا پر ایسے نابغہ خیال موجود ہوتے ہیں جو حال کی دانشور کلاس سے اختلاف رکھتے ہیں، ان سے علیحدہ خیالات کے مالک ہوتے ہیں اور ان سے ہٹ کر سوچ سکتے ہیں۔ یہاں سے معاشروں میں کشمکش شروع ہوتی ہے۔ یہ لوگ گو بہت کم ہوتے ہیں لیکن ان کے خیالات اور نظریات میں تبدیلی کی خو ہوتی ہے۔ اس تبدیلی کی نفوذ پذیری کی رفتار آہستہ ہو تی ہے لیکن بلاشبہ یہ مستقبل کی تہذیب یا معاشرے کے دانشوروں کا پہلا دستہ ہوتا ہے یہ مستقبل کی تاریخ کے لکھاری ہوتے ہیں جن کے ادراک اور تصورات پر مستقبل کا انسان پروان چڑھتا ہے۔
۔

۔ ” نگاہی بہ تاریخ فردا”۔ ڈاکٹر علی شریعتی سے ماخوذ و تلخیص شدہ 

when a blogger dies


When someone dies, a relation dies with it.. a mother dies with the mother, a father dies with the father, an uncle, a grandparent.. a sibling, their love and care die with that.. no one can replace that.. but other loves do spread out to fill the void, someone else puts a soft, caring arm around to make up for that… that is, if we get lucky. And sometimes, if we are not so lucky, we stay alone for long, waiting for that softness to return in our life in some form, getting it by and by or just getting over it.. that is life.. never stopping no matter how hard it hits someone.

But when a thinker dies, when a poet or writer dies… when a blogger dies, a thought process dies with it. A new idea of change remains unspoken. A unique world of beauty remains uncovered, yet another dimension of evolution remains silent. Yet another side of the story always remains untold. Yet another truth always stays hidden. A point of view that could be counted on, nulls down to nothing. And no matter how many more thinkers, poets, writers, and bloggers keep coming and filling the void, a thought always looms around.. that what life would have been like if they stayed with us some more… perhaps different in so many ways.

میکڈونلڈز والوں کی دوہری پالیسی؟؟


میکڈونلڈز والوں نے اپنی مارکیٹنگ اور فرینچایز پالیسی کے تحت پوری دنیا میں اپنا برانڈ متعارف کروایا ہے۔ امیریکہ میں اس کی ایک وجہ خوراک کی زیادہ مقدار میں ارزاں اور فوری فراہمی کے ساتھ ساتھ اس کی سروس، طویل شاہراہوں پر ریسٹ ایریا کی موجودگی اور بچوں کے لیے خصوصی آفر اور کھیلنے کی جگہ وغیرہ شامل کرنا ہے۔ خوراک کے ذائقے اور معیار کی یہاں بالکل بات نہیں ہورہی۔

 بہرحال اسکے بیان کردہ معیار کی ہر جگہ پر ایک سی فراہمی ہی سے اس کے نام کے ساتھ سروس کا ایک مخصوص تصور ذہن میں آتا ہے اور معمول سے ہٹ کر کچھ ہو تو بہت عجیب لگتا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں سیر سے واپسی پر ایک جگہ ریسٹ ایریا میں رکنا ہوا۔ اس دن مقامی چھٹی نہیں تھی یعنی نارمل کاروباری دن تھا اس لیے وہاں رش نہیں تھا۔ باتھ روم کی صفائی دیکھ کر میکڈونلڈز کی دوہری پالیسی پر بہت ہی افسوس ہوا۔ آپ بھی دیکھیے۔





زیادہ تر چیزیں جیسے نلکا، ہاتھ سکھانے کا ڈرائر وغیرہ خودکار تھے جو بقول کسے “چائینہ سے دو پیسے کا موشن سنسر لگانے سے ہو جاتا ہے اگر کسی کو محنت کا شوق ہو”۔  
اصل افسوس مجھے ‘کمرے’ کے شروع پر لگے نوٹس کو دیکھ کر ہوا۔۔ میں نے اس کی فوٹو لی تو فرش صاف کرتی لڑکی نے لاتعلقی سے نظر اٹھا کر دیکھا۔ اور پھر کام شروع کردیا۔ 

دوہری پالیسی  یہ ہے کہ پاکستان کے میکڈونلڈ میں باتھ روم کے دروازے کے ہینڈل پر  ہاتھ رکھے ایک سخت گیر دربان ‘وردی’ پہن کر کھڑا تھا۔ جب میں نے چھوٹی کی طرف اشارہ کرکے کہا اس کو باتھ روم جانا ہے۔ اس نے دوسری طرف منہ پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔”باجی ۔۔ پانی نہیں ہے۔۔اورجب میں اس کو قائل کرکے اندر پہنچی تو کچھ کچھ پانی تھا۔ لیکن اس کے علاوہ کیا کچھ تھا۔اس کو چھوڑیں !!۔ 

بادشاہت میں یہی مسئلہ ہے۔۔



چائے پینی ہے؟

 چلو چائے ہی پی لیتے ہیں۔

صبح صبح کیا ہوگیا ہے۔

بس زندگی۔۔ امید کی ایک کرن جو جاگی تھی وہ بھی قریب المرگ ہے۔

بادشاہت میں یہی تو مسئلہ ہے۔

بادشاہت۔۔ یہ تو تاریخی مینڈیٹ تھا۔

مینڈیٹ تو عوام دیتے ہیں نا۔

 تو۔

نہیں میرا مطلب۔ عوام کو تو معلوم ہی نہیں کہ وہ ہیں یا نہیں ہیں۔

لیکن وہ ہیں تو۔ کڑوڑوں لوگ ہیں۔

 لیکن ان کو معلوم نہیں ہے کہ وہ ہیں یا نہیں ہیں۔

 اور کیسے معلوم ہوتا۔ ووٹ تو ڈالا نا۔ پورے نا سہی آدھے تو اصلی ہوں گے۔

 بادشاہت میں یہی تو مسئلہ ہے۔

 مسئلہ یہ ہے کہ جسکو عزت ملتی ہے وہی سب بیچ ڈالنے کو نکل پڑتاہے۔

جس کا مال ہے اسے فکر نہیں تو دوسرے کو کیا فکر۔۔

 جس کا مال ہے وہ بے چارہ تو زندگی سے لاچار پھر رہا ہے۔ اپنے مسئلے مسائل میں الجھا ہوا۔

اگر کوئی اپنا مسئلہ نہیں بتائے گا تو دوسرے کو کیا علم۔۔

اور کیسے بتائے سب تو سامنے ہے۔ آنکھیں بند کرنے پر بھی چیخ رہا ہے۔

 میں بتاؤں کیسے بتائے۔ ہر شخص کو ایک پنسل اور ایک پیپر دے دو کہ اپنی قومی، معاشی و معاشرتی ترجیحات کی ایک فہرست بنائے اور اس میں پانچ سے دس باتیں لکھے۔

سو کروڑ ترجیحات سامنے آ گئیں۔۔ اب اس کو کیا کرنا ہے۔۔

مجھے یقین ہےاکثریت کی فہرست میں دس کی دس باتیں سیم ہونگی۔

 لیکن وہ نو رتنوں کو سمجھ نہین آئیں گی۔ اور لازمی اس میں بھی فراڈ نکل آئے گا۔

 لیکن ایسا کرنے میں حرج ہی کیا ہے۔ اور کیسا لگے گا۔ ہر شخص جو کچھ بول رہا ہے وہ پہلے اپنی لسٹ سنانا شروع کردے۔ ریڈیو پر کال کرے میری پسند کا گانا سنادیں۔ لیکن پہلے میری لسٹ سن لیں۔ کھانے کے چینل پر ۔۔میری بہن سے بات کریں لیکن میری لسٹ سن لیں پہلے۔ میڈیا پر جی میرا ایک سوال ہے آپ کے شو کے بارے میں۔۔لیکن میری لسٹ یہ ہے۔ بلاگ پر ۔ قومی مسائل کی ترجیحات کی فہرست۔ فیس بک سٹیٹس۔۔ دس اہم مسائل جو سب سے پہلے حل ہوں

 تمہارے ساتھ یہی مسئلہ ہے ۔۔لمبا چوڑا خیالی پلاؤ۔۔
ی

ہ اتنا خیالی بھی نہیں ہے۔

اور وہ بھی پالیٹیکس سے متعلق۔۔

یہ پالیٹیکس سے متعلق نہیں ہے۔ ہیومن سائینس ہے۔۔ ہاؤ ٹو سروائیو آ نیچرل ڈزاسٹر ود ٹیم ورک۔۔

ٹیم ورک کے لیے محنت کچھ زیادہ چاہیے ہوتی ہے

 یا تسلسل۔۔۔ اور تعداد۔۔

ہم کیوں بحث میں پڑ رہے ہیں۔ اس وقت میں کتنا سارا کام ہو سکتا تھا

تو ہم کو کیا آشنا کے کام سے پیارا ہے بیگانے کا کام

یا ہماری ترجیحات کی فہرست۔۔ ہمارا خاندان۔ ہمارا گھر۔ ہماری منقولہ و غیر منقولہ جائیداد۔۔ ہمارے۔۔

چچ۔۔ یہ تنگئ دامانِ تمنا ئے تو۔۔

حقیقت پسندی ایک آرٹ ہے ۔۔ کچھ لوگوں کے خوابوں کے لیے کچھ دوسرے لوگوں کو جاگنا پڑتا ہے

یہ فلسفہ نہیں کیا۔۔۔

فلسفہء حیات۔۔

 آہ۔ اور چائے چلے گی؟

یس پلیز۔۔ بائے دا وے بادشاہت کا کیا مسئلہ ہے؟

 پہلا جشنِ طرب مخالفین کے سروں سے سجتا ہے

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔


 تمام حقائق، واقعات اور مکالمات فرضی ہیں۔ کسی بھی قسم کی مطابقت محض اتفاق ہوگی۔ عوام، میڈیا اور مخالفین فرضی کردار ہیں اور وجود نہیں رکھتے۔بادشاہت اصلی ہے۔۔لونگ لو دا کنگ۔

ایک کتاب

مجھے کتابیں اچھی لگتی ہیں۔ ان کو پڑھنا اور ان کو لکھنا۔ مجھے لگتا ہے دنیا میں اگر کوئی کرنے کا کام ہے۔ تو یہی ہے۔ لیکن افسوس کہ میں اس میں ذرا بھی ماہر نہیں ہوں۔ نہ پڑھنے میں نہ سمجھنے میں اور لکھنے میں تو بالکل نہیں۔ 
 
لیکن ایک کتاب ایسی ہے کہ جس کو پڑھ کر میرا شدت سے جی چاہتا ہے۔ کاش مجھے صرف یہ ایک کتاب پڑھائی جاتی۔ کاش میں اسکو سمجھتی اس کا علم پاتی اور پھر کچھ ایسا لکھتی جو کتاب کہلاتا۔ 
 

یہ تحرير اور دوسرے افسانے پڑھنے کے لیے کتاب کا ڈاؤنلوڈ لنک دیکھیں ۔

پرانے افسانے

رافعہ خان