Year: 2011
سگنل تھیوری
اگر ایک مثالی مشین عمومی حالات میں مثالی کارکردگی کی حامل ہو سکتی تو شائد ایک عمومی سگنل بھی لامحدود طور پر فضا میں موجود رہتا۔ آسان الفاظ میں جو ہم کل بولتے اس کو آج بھی سن سکتے۔۔ کیونکہ آواز کی لہریں مسلسل چلتی رہتیں اور کبھی ختم نہ ہوتیں۔ لیکن حرحرکی قوانین نے ابدیت کے مثالی تصورات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ہر طرح کے عوامل کی موجودگی میں سگنل طول میں تو بڑھ گئے ہیں لیکن ان کی عمر میں کچھ خاص اضافہ نہیں ہو پایا۔ ورنہ میمو کا مسئلہ اتنا لمبا نہ جاتا۔
کتنا آسان ہوتا کوئی ایک سر پھرا ایک مخصوص فریکوینسی نشر کرتا اور ہم اپنے اپنے ریڈیو اس پر ٹیون کرکے براہ راست سب بات چیت اپنے اپنے کانوں یا سماعتی آلوں سے صاف صاف سن لیتے پھر حقدار کو اس کا حق رسید کرتے اور کسی اور کو موقع دیتے۔۔ کہ آو اور اپنی دنیا سنوارو۔ لیکن کیا کیا جائے دنیائے سائینس انسانی ضرورتوں سے ابھی بہت ہی پیچھے ہے۔ ابھی تک ہم ریکارڈنگ اور ٹیکسٹ ہسٹری وغیرہ پر تکیہ کرتے ہیں جو بیک وقت بڑوں کے ثبوت اور بچوں کا کھیل ہیں۔ اور بچوں کا کھیل سے میری مراد وہ سپائی واچ ہے جس کو وہ چپکے سے میرے کمرے میں سرکانے کے بارے میں کھسر پھسر کر رہے ہیں تاکہ باقی چھٹیون کا پلان جان سکیں۔
لیکن آواز کی لہروں کا طویل العمر ہونا واقعی ایک اہم ضرورت ہے۔ کیونکہ اس سے بہت سے ابہامات کا خاتمہ ممکن ہے۔ کس نے کس وقت کیا کہا تھا اس پر لڑنے کی قطعا ضرورت نہیں پڑے گی۔ کیونکہ سب کا کہا ہوا بالکل سامنے کی بات ہوگی۔ اور اگر فوٹو بھی مل جائے تو یہ ویڈیو کیمرہ وغیرہ کا مسئلہ ہی ختم ہوجائے بس آرام سے کل کی، پچھلے سال کی، دس سال پیچھے کی وغیرہ وغیرہ ساری باتیں اور فوٹوز دیکھتے رہیں۔ بلکہ میں تو سوچتی ہوں تاریخ کی کتابوں کی بہت سی ارادی ۔۔ اور غیر ارادی غلطیوں کا خاتمہ ممکن ہے۔ جنگوں کے اسباب پر ہر ایک اپنی ذاتی روشنی ڈال سکتا ہے اور خوب تفصیل سے دیکھ سکتا ہے کون کیا کر رہا تھا اور کیا کہ رہا تھا۔
اور پھر یہاں پر رکنے کی کیا ضرورت ہے۔ ایک دفعہ صحیح فریکوینسی کی تلاش اور اشاعت کی ضرورت ہوگی پھر جن جن کے پاس مخصوص آلات (میری ترجیح تو ریڈیو ہی ہے۔) لیکن اگر واقعی سائینس نے زیادہ کمال دکھانے کی سوچی اور ماضی کی لائیو ویڈیو دیکھنے کا سلسلہ بن ہی گیا تو دو ایک کیا پوری چودہ صدیاں۔۔ یا دو ہزار سال پیچھے جا سکتےہیں۔ کیو ٹی وی والے براہ راست نشریات کا آغاز کرسکتے ہیں۔ اگر ڈزنی والوں نے ماضی کو ری کاسٹ کرنے کے تمام حقوق پہلے ہی سے محفوظ کر لیے تو اس پر بحث شروع کی جا سکے گی کہ کچھ ویڈیوز صحیح ہیں کچھ باطل۔ پھر کچھ ویڈیوز جلانی پڑیں گی۔ کچھ کو عوام کی پہنچ سے دور رکھا جائے گا تاکہ انہیں صحیح غلط کا کچھ معلوم نہ ہو سکے۔ الغرض تحقیق اور کاروبار کی ایک واضح نئی راہ سامنے ہوگی۔ پھر کس کس کی دکان چمکے گی اور کس کس کی بند ہوگی یہ بعد کی بحث ہے۔
ذاتی طور پر میری اولین ترجیح ان چیدہ مواقع کا مطالعہ ہوگا جہاں خدا نے بندے سے خود پوچھا۔ لن ترانی سے میں واقف ہوں۔ اور یہ بھی نہیں کہ مجھے عربی یا عبرانی وغیرہ سے کچھ واقفیت ہے۔ سو بات تو مجھے سمجھ نہیں آئے گی (کم از کم جب تک ٹرانسلیٹر کی سہولت ساتھ نہیں آتی)۔ لیکن بہرحال آواز سننا بھی شرف ہے۔ کافی خصوصی شرف۔ لیکن پھر ایسا ہی لگتا ہے کہ اگر یہ شرف عوامی ہوتا تو آواز کی لہروں میں کچھ تو پائیداری ہوتی۔ پھربھی مایوسی کی کوئی بات نہیں۔ علاج تنگی داماں پر غور کریں۔ خلائے بسیط بہت وسیع ہے۔
خلا میں فریکشن کی کمی کی وجہ سے کوئی بھی لہر ہمیشگی کی حامل ہو سکتی ہے۔ اور بھلا ہو اوزون کو برباد کرنے والوں کا۔ کئی زمینی آوازیں اور فریکوینسیز ادھر ادھربھٹکتی مل جائیں گی۔ اور خلا میں موجود آوازوں پر تحقیق تو ہو ہی رہی ہے۔ صرف نا موجود تھا تو میڈیم۔ اینٹی میٹر نے وہ کمی بھی دور کر دی۔ اب جہاں کچھ نہیں ہوگا تو ہوگا۔ میرا مطلب ہے جہاں مادہ نہیں ہوگا ضد مادہ ہوگا۔ ویسے سایئنسدان کافی خوش تدبیر ہوتے ہیں۔ اپنی دوربین سے گیسوں کےاخراج اور روشنی کے مخصوص پیٹرن کے ڈوپلر امیجز کا مطالعہ کرکے گھر بیٹھے سونگ اف سن بلکہ اکثر سیاروں کی آوازوں کی ریکارڈنگ مہیا کرچکے۔ کوانٹم تھیوری کے مطابق اگر وہ کچھ اور ہمت کریں تو اینٹی میٹر میں ان کو کافی سننے کو ملے گا۔ لیکن اس کی ایک حد ہے۔۔
کوہان تو ہوگا۔۔۔
بچے جرابوں کے بل پر ادھر سے ادھر پھسل رہے ہیں۔ اوپر نیچے دوڑ رہے ہیں۔ میں نے چند لمحے پہلے تشدد کی زیادتی کا بہانہ بنا کر سٹاروارز بند کردی تھی جس نے مختلف عمروں کے بچوں کو ایک ہی کمرے میں باندھا ہوا تھا۔ شور سے گھبرا کر میں نے دوبارہ ٹی وی آن کرکے کارٹون چینل میں ٹام اینڈ جیری لگا دیا۔ صرف کردار بدلے ہیں۔
چائے کی خوشبو اچھی لگ رہی ہے۔ لیکن یہ لپٹن نہیں ہے۔ میں دو کوس دور جا کر دو پیسے زیادہ دے کر پاکستانی یا مسلمان دکان سے سودا لانے کی کوشش کرتی ہوں لیکن وہ دو پیسے کبھی پاکستانی یا مسلمان کا نفع نہیں بنتے۔ میرے جانے پہچانے برانڈ وہاں ہوتے ہی نہیں۔ “ان کی مارکیٹ نہیں ہے۔۔” اکثر معلوم ہوتا ہے۔ “لیکن یہ برانڈ۔۔ “میں حلیم کے لیے دال ہاتھ میں لے کر بحث کرنے کا وقت نہ ہوتے ہوئے بھی سوال کر گئی تھی۔۔ “ارے بھئی دال تو دال ہے ، برانڈ جو بھی ہو۔” وہ کافی سیانی دوکاندار ہیں ۔۔ یہی دلیل انہوں نے پچھلی بار اردو کے مختلف نام کے بھی دی تھی۔۔”اردو تو اردو ہی رہے گی خواہ کوئی اسے ریختہ کہے یا ہندی۔۔” میں نظر چرا گئی تھی۔۔
سوال اب عمرانی یا سماجی نہیں رہا۔۔ اس محاذ پر فتح کا جھنڈا لہرائے تو کم و بیش تین عشرے بیت چکے ہیں۔ سوال اب خالص معاشیات کا ہے۔ سوال غربت کی اس انتہائی لکیر کا ہے جو ہمارے ملک میں اب بھی موجود نہیں۔ سوال سستے مزدوروں کا ہے۔ لیکن سوال کرنے کا میرے پاس وقت نہیں ہے یا حق ۔ اس پر میں ابھی نہیں سوچ سکتی۔۔
میں اس راستے سے بہت دور ہوں جہاں لوگ اپنی آپشنز اوپن ہونے پر خوش ہیں۔ ان کے سینما اب فنون لطیفہ کے نئے رنگین افق کی جانب نظر جمائے کھڑے ہیں اور کپڑوں، ڈراموں کی نئی کھیپ کی تیاری بھی سامنے ہوگی۔ لیکن مجھے نہ جانے کیوں لگتا ہے کہ اس خوشحالی سے راستوں کو کبھی فائدہ نہیں ہوتا۔ راستے تو بس راندہ، درماندہ اور پائمال ہوتے ہیں۔ راستے منزل نہٰں بنتے۔ ہاں سڑکوں کے ساتھ ساتھ بنے ایک رات کے موٹل، سفری بیت الخلاء اور چائے خانے، ٹرکوں کی سروس کے اڈے ایسے کاروبار پھلنے پھولنے کی ایک امید بھی ہے۔ اگر میکڈونلڈ والوں نے اس کا ٹھیکا پہلے سے نہ لے لیا۔۔ افوہ چائے ابلنے کو تھی۔۔ بچت ہو گئی
“ارے تم نے کچھ بات وات نہیں کی آج ۔۔” کسی نے شفقت سے ہاتھ میرے کندھے پر دھرا۔۔ “کچھ بولو تم بھی اس بارے میں۔۔”
“میں ۔۔ میں بھلا کیا بولوں؟؟” میں نے دل ہی دل میں دہرایا۔۔ کچھ نہیں بولنا ، کچھ نہیں سوچنا۔۔
“کچھ تو بولو۔ تبدیلی کے بارے میں کچھ کہو۔۔”
“میں کچھ کہوں تو مگر۔۔۔”
“مگر کیا؟؟؟”
“وہ ۔۔کوہان کا ڈر ہے۔۔”
ان کی شفقت بھری آواز اچانک بارعب ہوگئی۔۔ “کوہان کا ڈر ہے؟؟
اکتوبر میں برف باری
ویسے تو جون میں اولے بھی پڑتے ہیں۔ اور پاؤ بھر کے اولے گاڑی کی باڈی میں پانچ منٹ میں ان گنت نشان ڈال سکتے ہیں۔ اور تجربے سے ہم نے سیکھا ہے کہ ایسے غیر موسمی اور نامعقول حادثات کے بارے میں تمام معلومات پہلے سے رکھنی چاہییں تاکہ گاڑی کو وقت پر اندر رکھنے اور ایسے ہی کچھ دوسرے ضمنی مسائل کو دھیان میں رکھا جائے۔ لیکن اکتوبر میں برف باری نے پھر ہمیں اور ہمارے لینڈ سکیپ کو بے خبری میں جالیا۔
فئیر ویدر۔۔
چھوٹی کو سکول لے کر جانے کے دو راستے ہیں۔ چار بار ایک ہی راستے سے گزرنے کے عمل کی تکرار اور بوریت کو کم کرنے کے لیے میں انہی دو راستوں کو بدل بدل کر استعمال کرتی ہوں۔ پہلا راستہ چھ منٹ کی ڈرائیو، چار سگنل اور ٹریفک ملا جلا کر دس منٹ تک سکول تک پہنچاتا ہے۔ اندر کا راستہ بھی دس ہی منٹ تک پہنچاتا ہےلیکن اس میں سگنل نہیں ہیں۔ اکثر وہ سڑکیں بالکل خالی ہوتی ہیں۔ میرا مطلب ہے تقریبا ً بالکل خالی۔ اگر ہم جگہ جگہ رکے مختلف قسم کے ٹرکوں ، ڈاک کی آہستہ خرام گاڑیوں اور سڑک کی اطراف میں پیدل چلتے لوگوں کو نظر انداز کر دیں جن سے بچ کر چلنے کے لیے مجھے اپنی رفتار کو کافی کم کرنا پڑتا ہے۔
لیکن میری دوسرے راستے سے دوستی ہو گئی ہے۔ باہر کی سیدھی سڑک کے برعکس یہ ایک پرپیچ راستہ ہے۔ اپنی دریافت کے شروع میں غائب الدماغی کے باعث کئی بار میں غلط موڑ مڑ گئی۔ وہ ایک اچھا تجربہ نہیں تھا۔ اس لیے میں اب ہمیشہ اپنا برقی نقشہ سامنے رکھتی ہوں۔ بہرحال درمیان میں چھ منٹ کی ایک حصہ ہے۔ بالکل خالی۔ میرا مطلب ہے واقعی خالی۔ یہ ایک کم چوڑی سڑک ہے۔ جہاں دو گاڑیاں پہلو بہ پہلو چلیں تو اپنی رفتار احتیاطاً بالکل کم کر لیتی ہیں۔ لیکن نوے فیصد وہاں دو گاڑیاں پہلو بہ پہلو نہیں ہوتیں۔
وہاں ایک خاموشی اور خوبصورتی ہے۔ بند گاڑی میں اونچی آواز میں سی ڈی آن ہونے کے باوجود وہ خاموشی میرے وجود میں اتر جاتی ہے۔ وہ خوبصورتی مجھے اندر کہیں چھو لیتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے رنگ برنگے پرندے اکثر چھوٹی ڈالوں پر چہچہاتے نظر آتے ہیں۔ گلہریاں اتنی بے فکری سے پھدکتی راستے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جاتی ہیں جیسے وہاں خطرے کا کبھی گذر نہ ہوا ہو۔ کچھ روز پہلے تک وہ راستہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک سبز تھا۔ لیکن سپاٹ سبز رنگ کی طرح نہیں۔ بلکہ سبز کا ہر ممکن شیڈ مختلف درختوں، پودوں اور جھاڑیوں کی صورت میں دونوں طرف سے سڑک پر جھک آیا تھا۔ اور ستمبر کی تیز چمکیلی دھوپ ایسے پتوں سے چھن چھن کرسڑک پراترتی جیسے سایوں کوچھپن چھپائی کھیلنے پر اکسا رہی ہو۔
لیکن آپکو اس راستے کو بارش میں بھی دیکھنا چاہیے۔ ہلکی پھوار ہر سبز کو ایک دوسرا سبز بنا دیتی ہے۔ زمردی۔نکھرے پتے اور جھاڑیاں ایک تاثر بناتے ہیں۔ لمبے اونچے درختوں کا کاہی اور سفید سے مل کر ایک تاثر بناتے ہیں۔ میرے دونوں طرف چھاوں کیے درختوں میں ایک تروتازہ سا اندھیرا ہو جاتاہے۔ اور پورا ماحول ہرے رنگ کی گیلی گیلی پینٹنگ بن جاتا ہے جسے فطرت نے سوکھنے کے لیے ٹانگا ہو۔ ایسی بہت سی تصویریں ہم ویب پر دیکھتے ہیں۔ لیکن وہ صرف ایک تصویر نہیں ہے وہ ایک کیفیت ہے اسی لیے میں نے کیمرے کی بجائے لفظوں میں اسے پکڑنے کی کوشش کی ہے۔
اس ماہ کے شروع میں خزا ں نے سب رنگ بدل دیے تھے۔ خوبصورتی میں کئی گنا اضافے کے ساتھ زمردی آرائیشیں سرخ، پیلے اور بھورے رنگوں میں ڈھل گئی ہیں۔ کچھ درختوں سے باریک باریک پیلے تنکے گر گر راستے کے دونوں جانب زرد وز حاشیہ بن گیا ہے۔ ہوا اپنے تیز اور ہلکے ہلکوروں میں پتوں کو ادھر سے گذرنے والوں پر برساتی ہے۔ یا وارتی ہے۔ ہوا کا جو بھی مفہوم ہے، دلپذیر ہے۔ قدم روک لینے والا۔ سانس روک دینے والا۔
مجھے لگتا کئی بار میری آنکھ جھپک جاتی ، گاڑی اور میں کہیں دور رہ جاتے ۔ اور میں اس ماحول میں مدغم ہوکر اس خاموشی اور خوبصورتی کا ایک حصہ بن جاتی ، لیکن میں جتنا بھی آہستہ چلوں چھ منٹ ختم ہو جاتے جہاں سے مجھے سب کچھ پیچھے چھوڑ کراگلا موڑ مڑنا ہوتا ۔ میں دوبارہ ادھر ہی سے گزروں گی، میں خود کو بہلا لیتی۔
اب درختوں سے پتے گر گر کر آسمان کے جھانکنے کے لیےراہ بنا رہے ہیں۔ درختوں کی سوکھی شاخیں ایک نیا رنگ پکڑ رہی ہیں۔ خاکستری، بھورا اور سلیٹی۔ تصویر کا نیا رخ نئے انداز سے لبھاتا ہے۔ لیکن اب بارشوں کا زور ہے۔ وہ اونچی نیچی سڑک اور آڑے ترچھے موڑ پھسلن زدہ ہو جاتے ہیں۔ بادل زیادہ گہرے ہوں تو وہاں بالکل اندھیرا ہوجاتا ہے۔موسم طوفانی ہو تو کسی کمزور شاخ کا سڑک پر گرے ہونے کا بھی امکان ہے۔ ایسی مشکل میں مدد ملنے کے امکانات سیدھی بڑی سڑک کی نسبت نوے فیصد کم ہیں۔ ہر بار ادھر مڑنے سے پہلے میں رسک انیلسز کرتی ہوں۔ برقی نقشہ بند کرتی ہوں اور بڑی سڑک پر مڑ جاتی ہوں۔
ڈیٹا ریکووری
میری ساری فوٹوز کو وائرس کھآآآ گیا ہے۔
اہم ہم میرا مطلب ہے۔۔ بہت ساری فوٹوز کے آئیکن تو ہیں۔ لیکن فائل نہیں کھلتی۔ سینکڑوں فوٹو برباد ہوگئیں ہیں
ہممم۔۔ اگر آئیکن ہیں تو ریکور ہو جائے گا
کیسے، کیسییے؟؟؟ ہمم میرا مطلب ہے۔۔ وہ کیسے؟
وہ ایسے کہ ڈیٹا وہیں ہییے۔ سوفٹ وئیر اس کو ریڈ نہیں کر پا رہا۔
لیکن کیوں۔۔ کیا مشکل ہے
کبھی کبھی فارمیشن ٹیبل کی الائنمٹ خراب ہو جاتی ہے تو سوفٹ وئر ہے ایک وہ اسے ریڈ کرکے ری الائن کر دے گا۔ اگر وائرس نہ ہوا تو واپس ہو جائے گا۔
ہو سکتا ہے جب دوسرے کمپیوٹر سے اس پر کاپی کیا تھا تو ایریز ہوگیا ہو۔ پھر تو ضائع ہی ہو گیا نا۔۔ ہاں۔۔
پہلی بات تو یہ کہ ڈیٹا کبھی ایریز ہوتا ہی نہیں۔
ہائیں! تو پھر وہ ہر ماہ ٹوٹل فارمیٹ اور فریش ونڈوز انسٹال کرنے کا کیا ٹنٹا تھا؟
فارمیشن ٹیبل نیا بن جاتا ہے تو نئے سرے سے ہارڈ ڈسک پر لکھا جاتا ہے۔ اور پرانا وائرس اس کو ایکسس نہیں کر سکتا۔
ہمم۔ جیسے ہم ہررر دفعہ پرانے پینٹ پر نیا کوٹ پینٹ کر دیں۔
آہ ہ ہ ۔ کچھ ایسے ہی۔
تو پہلی لیر پینٹ کے نیچے دوسری لیر پھر سوآن۔ ڈیٹا وہیں رہتا ہے۔ تو وہ جو لوگ جو ڈیٹا ریکوری کے لیے ہزاروں خرچ کرتے ہیں وہ اصل میں وہیں ہوتا ہے۔
وہیں۔ اچھا یہ ایک میموری ڈمپ تھا۔۔
توکیسے ملتا ہے؟
ابتدائی فائل سسٹمز میں سیکٹر زیرو اور فور پر پورا فارمیشن ٹیبل ہوتا تھا۔۔ زیرو پر کرپٹ ہو جائے تو فور سے کاپی کر دیتے تھے۔ ونڈوز دوبارہ انسٹال کرکے واپس۔۔ اب بہت اچھے ٹولزآ گئے ہیں۔
اتنا آسان۔۔ اس کے اتنے پیسے؟
اگر کسی کو نہیں معلوم تو اس کے لیے آسان نہیں ہے۔ اچھا میں ذرا سا کام۔
تو ڈیٹا ڈیلیٹ کرنے سے بھی ڈیلیٹ نہیں ہوتا۔۔ کیا سی ڈیز پر بھی ایسے ہی ٹیبل اور سیکٹر بنتے ہیں۔۔
ایسے ہی بنتے ہیں۔ یہ خالی سی ڈی ہے۔ اس کی سطح بالکل شفاف ہے اور یہ برنڈ ہے اس پر ٹریک بنے ہوئے ہیں۔۔
ہممم۔ پہلے کبھی غور نہیں کیا یہ تو واقعی یہیں ہیں۔ سو ٹیبل، سیکٹر، ٹریک یہ سب کبھی ایریز نہیں ہوتے؟ ڈیلیٹ کرنے سے بھی نہیں؟؟
نہیں۔ اچھا یہ انیلسس مجھے اگلے آدھ گھنٹے میں چاہیے تو میں ۔۔
تو ڈیٹا کیسے ختم ہوتا ہے۔ اگر کوئی سنجیدگی سے کسی چیز سے چھٹکارا پانا چاہے۔۔
بسسس۔۔ یہ ہی کیچ ہے اس سارے چکر میں۔ ہم آفس میں ہم کریمنگ کرتے ہیں جس ہارڈ ڈرائیو کو ڈس کارڈ کرنا ہوتا ہے۔
یعنی جلا کر راکھ کرنے سے جان چھٹ جاتی ہے۔۔مگر وہ نئی ٹیکنالوجی۔۔ اب تو جلے ہوئے سے بھی کچھ نہ کچھ حاصل ہوجاتا ہے
اس میں ابھی بہت پانی ڈل سکتا ہے۔۔
پتا ہے؟؟ جیسے سی ڈی پر لکھا جاتا ہے گول گھوم گھوم کر۔۔ لینس کے نیچے۔۔۔ایسے ہی زمین بھی گھوم رہی ہے گول دائرے میں۔۔اور ڈیٹا سٹور ہوتا جارہا ہے۔۔
سوری۔۔ ابھی نہیں۔
ہاں ہاں کوئی بات نہیں۔۔ میں تو بس یہ سوچ رہی تھی ایک دفعہ جو بول دیا۔۔ کر دیا۔۔ لکھا گیا۔ اب اس کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔۔ اور کچھ لوگ خود کو آگ میں جلوا کر سمجھ رہے ہونگے جان چھٹ جائے گی۔ اور کچھ سمجھتے ہیں رات گئی بات گئی۔۔ لیکن ڈیٹا ری کووری سیٹ اپ سارے سیکٹر، اور ٹیبل وغیرہ کو سنبھالتا جارہا ہے کسی حتمی الائنمنٹ میں۔ توازن و ترتیب سے ۔۔
ہوں۔
بہت سختی ہے بھئی
((
شیش۔۔ آدمی ہمارا کوئی دم تحریر بھی تھا۔۔؟؟
ہممم۔۔ ہمم۔۔ چچا آپ بھی نا۔۔ وہ نہیں سنا کیا۔۔
اور جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں۔۔ ان کے ہاتھ ہم سے کہ دیں گے۔ اور ان کے پیر اس کی گواہی دیں گے۔۔
پھر جس کے دل میں ذرہ برابر بھی برائی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔۔ اور جس کے دل میں ذرہ بھر بھی نیکی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا
اور کس آدمی کی ضرورت ہے اب؟
ہممم))
او ہاں ری رائیٹ کا طریقہ تو معلوم ہے نا؟؟ فارمیٹ فرسٹ
خسارہ
بلاگ سپاٹ اردو ڈیزائن
یوٹوپیا
خیال حقیقت کا پیراہن پہننے سے پہلے کسی ذہن میں پنپتا ہے۔ خواب شرمندہ تعبیر ہونے سے قبل آنکھوں میں بستا ہے۔ اہرام مصر ہو یا دیوار چین، ہر تعمیر چند لکیروں سے اٹھتی ہے۔ ہر عمل کی ایک راہ عمل ہوتی ہے۔ تبدیلی پہلے دلوں میں پنپتی ہے، پھر لفظوں میں نفوذ پذیر ہوتی ہے اور خوشبو کی طرح پھیل جاتی ہے۔
بدلاؤ کی خواہش پہلی کڑی ہے۔ تبدیلی کا خیال ابتدا ہے۔ تبدیلی نہ لا سکنا کسی کی ہار نہیں ہوتی۔ اس کا تصور گم کر دینا اس کا خیال نہ آ سکنا اصل شکست ہے۔ ظالم سے لڑ نہ پانا کمزوری ہے تو ظلم سہتے رہنا اور بچاو کے لیے ہاتھ تک نہ اٹھانا بڑی کمزوری ہے۔ ہاتھ نہ اٹھا پانے کی سکت کھو دینے سے بھی زیادہ خطرناک ہے ظالم سے چھٹکارا پانے کی خواہش سے تہی دست ہو جانا۔
جب تم نہ لڑ سکو۔ نہ ہاتھ اٹھا سکو۔ نہ چیخ سکو تو ایک خواب بن دو۔ اسکو لفظ اوڑھا دو۔ لفظ جب لفظوں سے ملتے ہیں تو ہاتھ بن کر لڑتے ہیں۔ پھر یہ آنکھ در آنکھ پھیلتے ہیں۔ زبان در زبان چیختے ہیں۔ سادہ کاغذ پر لکھا ایک سراب اہم ہے۔۔ ایک بلو پرنٹ۔ جب راہ گم ہو جائے تو سراب میں زندگی جاگتی ہے۔ خواہ چند سانس ہی ہو۔ اور پھر کس کو معلوم منزل چند سانس ہی دور ہو۔
بصیرہ عنبرین۔۔ یہ سچ مچ تم ہو یار بہت زیادہ خوشی ہوئی تم کو یہاں پر دیکھ کر۔ اور میں…
رافعہ خان آج بھی اتنا اچھا لکھ رہی ہیں جیسا کہ شروعات میں لکھ رہی تھیں۔ ماشاءاللہ
یہ کتاب بہت اچھی ہے۔رافعہ کی پہلی کتاب کی طرح۔کیا مصنفہ کا اصل نام رافعہ وحید یے۔
'A blessing cannot be saved.' Aptly put. Jo buray waqt kay liye jama' karay ga, uss par bura waqt aaye…
"ابھی ویسے ایسے لگ رہا ہے کسی نے جلدی میں انقلاب کا ڈبہ کھولتے ہوئے اسے فرش پرگرا دیا ہے"كمال…
میجیکل!!!!کم الفاظ میں اتنا خوبصورت لکھنا، بہت کم لوگوں کے پاس صلاحیت ہوتی ہےلکھتی رہئیے :)
ماشاءاللہ کافی اچھا لکھ لیتی ہو آپ۔ آپ جس طرز کا لکھتی ہو بہت خوب اور عمدہ لکھتی ہو لیکن…
سوائے اس کے کچھ اور نہیں کہا جا سکتا کہ "بہترین"۔۔۔ اور "بہت ہی عمدہ"۔۔۔
بہت خوب۔۔۔ آپکی پچھلی تحریر بھی کُچھ طویل ہونے کے باوجود پڑھ کر مزہ آیا اور یہی حال اس مرتبہ…
محترمہ رافعہآپ کا بلاگ بہت سنجیدگی سے پڑھا جاتا ہے، اور آپ کی تحریر کا انتظار بھی رہتا ہے-بہت شکریہ