سب سے اچھا بچہ

جب میں رات میں سارے اچھے کام کر لیتااور بابا کے پاؤں دباتا۔ تو بابا مجھے اپنے ساتھ لٹا لیتے۔ بابا کی چارپائی بہت بڑی تھی۔ بڑے بڑے پایوں والی۔ سفید کھیسوں والی۔ جو شام سے پڑے پڑے بہت ٹھنڈے ہو جاتے تھے۔ رات کی رانی کی خوشبو رات بھرآتی رہتی۔ ستارے اپنی اپنی جگہ نکلتے اور چمکتے رہتے۔ اور چاند اگر جس روز میرے بستر کے دوسری طرف جانے میں دیر کرتا تو صبح سورج کو جلدی جلدی خداحافظ کہتا۔
 
جب میں سونے سے پہلے اپنی ساری کتابیں دل میں دھرا لیتا، اپنے کلمے اور پہاڑے۔ تو دنیا کو اچھا بنانے کے بہت سارے طریقے سوچتا۔ کبھی میں بابا سے پوچھتا ” بابا ۔اپنے قصبے جیسا اچھا؟“ اور بابا ہمیشہ کہتے۔ ”نہیں اس سے بھی اچھا۔“ لیکن مجھے تو اپنا قصبہ ہی سب سے اچھا لگتا تھا۔

اپڈیٹ: 

یہ تحرير اور دوسرے افسانے پڑھنے کے لیے ذیل کی پوسٹ میں کتاب کا ڈاؤنلوڈ لنک دیکھیں ۔

_______________

پرانے افسانے

رافعہ خان