سب سے اچھا بچہ

جب میں رات میں سارے اچھے کام کر لیتااور بابا کے پاؤں دباتا۔ تو بابا مجھے اپنے ساتھ لٹا لیتے۔ بابا کی چارپائی بہت بڑی تھی۔ بڑے بڑے پایوں والی۔ سفید کھیسوں والی۔ جو شام سے پڑے پڑے بہت ٹھنڈے ہو جاتے تھے۔ رات کی رانی کی خوشبو رات بھرآتی رہتی۔ ستارے اپنی اپنی جگہ نکلتے اور چمکتے رہتے۔ اور چاند اگر جس روز میرے بستر کے دوسری طرف جانے میں دیر کرتا تو صبح سورج کو جلدی جلدی خداحافظ کہتا۔
 
جب میں سونے سے پہلے اپنی ساری کتابیں دل میں دھرا لیتا، اپنے کلمے اور پہاڑے۔ تو دنیا کو اچھا بنانے کے بہت سارے طریقے سوچتا۔ کبھی میں بابا سے پوچھتا ” بابا ۔اپنے قصبے جیسا اچھا؟“ اور بابا ہمیشہ کہتے۔ ”نہیں اس سے بھی اچھا۔“ لیکن مجھے تو اپنا قصبہ ہی سب سے اچھا لگتا تھا۔

اپڈیٹ: 

یہ تحرير اور دوسرے افسانے پڑھنے کے لیے ذیل کی پوسٹ میں کتاب کا ڈاؤنلوڈ لنک دیکھیں ۔

_______________

پرانے افسانے

رافعہ خان

 

ثانا بابا

سب سے زیادہ برے مجھے اپنی بائیں جانب رہنے والے لگتے ہیں۔ برسوں سے ہم لوگ ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ لیکن نوازش فیملی کبھی بھی میرے رعب تلے نہیں آئی۔ اپنی کامیابیوں کا کتنا بھی ڈھنڈورا پیٹو، بچوں کی کارکردگی بڑھا چڑھا کر پیش کردو، اپنے کرسٹلز بطور خاص منگوا کر دکھا دو۔ مسز نوازش کی گھنی مسکراہٹ پر کوئی آنچ نہیں آتی۔ ذرا جلن نہیں دکھاتیں۔ اور ویسی ہی ان کی دونوں بیٹیاں ہیں۔ ملنساری اور سلیقہ بھگارنے کو بس موقع چاہیے۔ اوپر سے ان کا بیٹا ۔ سارا وقت لان میں مختلف ورزشیں کرتا رہتا ہےلیکن گریڈز ایسے لاتا ہے جیسے کتاب ہر وقت ہاتھ میں رہتی ہو ۔دل خاک ہو جاتا ہے۔ کسی روز ایسی چوٹ لگنی ہے اس ٹارزن کو کہ جنگل میں منگل ہو جائے گا۔

 

سچ ادھورا ہے ابھی۔ انتساب

 لفظ کاش کے نام

جس کا سہ حرفی وجود
محبت سے نفرت تک
آرزو سے حسرت تک
سب ریاضتوں کا عنوان رہا ہے
کلمہء افسوس ہے مگر
حرف دعا بھی ہے۔
 
__________

سچ ادھورا ہے ابھی

رافعہ خان

ناپرساں

 

اس بولتے شہر میں میرا غم کون کب سنے

میرے شہر کے سارے لوگ، 

خود اپنے ارادوں کی نا قدری کی داستانیں بیان کرتے 

اس زمانے کی آگہی کے جرم سناتے

لوگوں کی جہالت کے غم مناتے ، بولتے مسکراتے جا رہے ہیں

سبھی کو اپنا غم سنانا ہے ابھی

راستوں میں ٹھوکریں کھاتے قدموں کے زخموں کے قصے

حکایت زندگی رقم کرتے خونچکاں ہاتھوں کی داستانیں

میرا غم کون کب سنے؟؟

 
__________

سچ ادھورا ہے ابھی

رافعہ خان

سچ ادھورا ہے ابھی

 

ابتدائی طور پر یہ دیباچہ میں نے پہلے ایڈیشن کی اشاعت کے وقت لکھا تھا۔ ایپل بک پر موجود نئی ای بک میں یہ تحریر شامل نہیں ہے۔ اس لیے اسے یہاں بلاگ پر شائع کیا ہے۔

 پیش نظم ۔سچ ادھورا ہے ابھی 

یہ میرا دوسرا مجموعہ کلام ہے۔ دوسرا قدم۔ جستجوئے آرزو میں کبھی تو ایک ہی جست میں قصہ تمام ہو جاتا ہے لیکن کبھی انتظار کی، پہچان کی، کوششِ پیہم میں صدیاں بیت جاتی ہیں۔ دوسرا قدم رکھنے کی جگہ ہی نہیں ملتی۔ خیالوں کا قریہ قریہ جھانک لیا جاتا ہے، جذبوں کے سمندر کے سمندر پار ہو جاتے ہیں، لفظوں کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے، پھر وقت کی گنجائش ہی ختم ہو جاتی ہے، دوسرا قدم رکھنے کی جگہ ہی نہیں ملتی۔ ناتمام افسانہ کوئی موڑ دے کر تہ کردیا جاتا ہے۔ میرے ساتھ لیکن نہ پہلا معاملہ ہے نہ دوسرا۔ بلکہ ایک ایسی صورت ہے جہاں ہر اٹھتا قدم ارتقاء کی اک کڑی بن جاتا ہے۔ درجہ بدرجہ مقصود حقیقی کی طرف لے جاتا ہے۔

Continue reading “سچ ادھورا ہے ابھی”

خوابوں کی داستاں

ازل سے انساں کی چاہت
روشنی کے سارے خواب
تاریکی کی عنایت ہیں
انہیں ہم تیرگی ہی میں دیکھتےہیں
تیرگی ہی میں چاہتے ہیں
اور جشن کی روشنی میں
خواب زدہ زخمی آنکھیں لیے
اپنی تاریک ریاضتیں بھول کر
سب کے ہمراہ مسکراتے ہیں
 
__________

سچ ادھورا ہے ابھی

رافعہ خان

جب محبت جھٹکی جاتی ہے

اڑتی سوچیں پر سمیٹے خیال افق پر گم ہو جاتی ہیں
دل اک تسلسل سے سانس گنتا
رکنے لگتا ہے
 
آنکھوں کے جلتے سورج
روٹھی پلکوں پیچھے ڈوب جاتے ہیں
آوازیں لڑکھڑا کر سماعتوں کی بے نیازی سے
گھبرا کر رونے لگتی ہیں
بے سوال چہرے کا رنگ ساکت نظروں سے سب کو تکتا ہے
 
ان پرشور لمحوں میں اندھیرے سایوں سے
چپکے سے کچھ کہتے ہیں
آنسو دل میں اٹھتے ہیں رک رک کر
بہتے نہیں پر چبھتےہیں
اور سارے میں ایک کڑوی بو لہراتی ہے
 
_________________

سچ ادھورا ہے ابھی

رافعہ خان

شکست کا شمار

اس برس سے پہلے کا برس

بھر اس سے پہلے
یا اس کے بعد
یہ سارے سال
تاریخیں، دن، گھڑیاں، ثانیے
نرم روی سے مجھے شمار کرتے گزر رہے ہیں
اور میں انکو گن رہی ہوں
مگر میں پہلے تھک جاؤں گی
۔
 
__________

سچ ادھورا ہے ابھی

رافعہ خان