Year: 2010
سب سے اچھا بچہ
اپڈیٹ:
یہ تحرير اور دوسرے افسانے پڑھنے کے لیے ذیل کی پوسٹ میں کتاب کا ڈاؤنلوڈ لنک دیکھیں ۔
_______________
پرانے افسانے
رافعہ خان
ثانا بابا
سب سے زیادہ برے مجھے اپنی بائیں جانب رہنے والے لگتے ہیں۔ برسوں سے ہم لوگ ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ لیکن نوازش فیملی کبھی بھی میرے رعب تلے نہیں آئی۔ اپنی کامیابیوں کا کتنا بھی ڈھنڈورا پیٹو، بچوں کی کارکردگی بڑھا چڑھا کر پیش کردو، اپنے کرسٹلز بطور خاص منگوا کر دکھا دو۔ مسز نوازش کی گھنی مسکراہٹ پر کوئی آنچ نہیں آتی۔ ذرا جلن نہیں دکھاتیں۔ اور ویسی ہی ان کی دونوں بیٹیاں ہیں۔ ملنساری اور سلیقہ بھگارنے کو بس موقع چاہیے۔ اوپر سے ان کا بیٹا ۔ سارا وقت لان میں مختلف ورزشیں کرتا رہتا ہےلیکن گریڈز ایسے لاتا ہے جیسے کتاب ہر وقت ہاتھ میں رہتی ہو ۔دل خاک ہو جاتا ہے۔ کسی روز ایسی چوٹ لگنی ہے اس ٹارزن کو کہ جنگل میں منگل ہو جائے گا۔
سچ ادھورا ہے ابھی۔ انتساب
لفظ کاش کے نام
محبت سے نفرت تک
آرزو سے حسرت تک
سب ریاضتوں کا عنوان رہا ہے
کلمہء افسوس ہے مگر
حرف دعا بھی ہے۔
ناپرساں
اس بولتے شہر میں میرا غم کون کب سنے
میرے شہر کے سارے لوگ،
خود اپنے ارادوں کی نا قدری کی داستانیں بیان کرتے
اس زمانے کی آگہی کے جرم سناتے
لوگوں کی جہالت کے غم مناتے ، بولتے مسکراتے جا رہے ہیں
سبھی کو اپنا غم سنانا ہے ابھی
راستوں میں ٹھوکریں کھاتے قدموں کے زخموں کے قصے
حکایت زندگی رقم کرتے خونچکاں ہاتھوں کی داستانیں
میرا غم کون کب سنے؟؟
سچ ادھورا ہے ابھی
پیش نظم ۔سچ ادھورا ہے ابھی
خوابوں کی داستاں
روشنی کے سارے خواب
تاریکی کی عنایت ہیں
انہیں ہم تیرگی ہی میں دیکھتےہیں
تیرگی ہی میں چاہتے ہیں
خواب زدہ زخمی آنکھیں لیے
اپنی تاریک ریاضتیں بھول کر
سب کے ہمراہ مسکراتے ہیں
جب محبت جھٹکی جاتی ہے
رکنے لگتا ہے
روٹھی پلکوں پیچھے ڈوب جاتے ہیں
آوازیں لڑکھڑا کر سماعتوں کی بے نیازی سے
گھبرا کر رونے لگتی ہیں
بے سوال چہرے کا رنگ ساکت نظروں سے سب کو تکتا ہے
آنسو دل میں اٹھتے ہیں رک رک کر
بہتے نہیں پر چبھتےہیں
اور سارے میں ایک کڑوی بو لہراتی ہے
سچ ادھورا ہے ابھی
رافعہ خان
شکست کا شمار
بھر اس سے پہلے
یا اس کے بعد
یہ سارے سال
تاریخیں، دن، گھڑیاں، ثانیے
نرم روی سے مجھے شمار کرتے گزر رہے ہیں
اور میں انکو گن رہی ہوں
مگر میں پہلے تھک جاؤں گی۔
بصیرہ عنبرین۔۔ یہ سچ مچ تم ہو یار بہت زیادہ خوشی ہوئی تم کو یہاں پر دیکھ کر۔ اور میں…
رافعہ خان آج بھی اتنا اچھا لکھ رہی ہیں جیسا کہ شروعات میں لکھ رہی تھیں۔ ماشاءاللہ
یہ کتاب بہت اچھی ہے۔رافعہ کی پہلی کتاب کی طرح۔کیا مصنفہ کا اصل نام رافعہ وحید یے۔
'A blessing cannot be saved.' Aptly put. Jo buray waqt kay liye jama' karay ga, uss par bura waqt aaye…
"ابھی ویسے ایسے لگ رہا ہے کسی نے جلدی میں انقلاب کا ڈبہ کھولتے ہوئے اسے فرش پرگرا دیا ہے"كمال…
میجیکل!!!!کم الفاظ میں اتنا خوبصورت لکھنا، بہت کم لوگوں کے پاس صلاحیت ہوتی ہےلکھتی رہئیے :)
ماشاءاللہ کافی اچھا لکھ لیتی ہو آپ۔ آپ جس طرز کا لکھتی ہو بہت خوب اور عمدہ لکھتی ہو لیکن…
سوائے اس کے کچھ اور نہیں کہا جا سکتا کہ "بہترین"۔۔۔ اور "بہت ہی عمدہ"۔۔۔
بہت خوب۔۔۔ آپکی پچھلی تحریر بھی کُچھ طویل ہونے کے باوجود پڑھ کر مزہ آیا اور یہی حال اس مرتبہ…
محترمہ رافعہآپ کا بلاگ بہت سنجیدگی سے پڑھا جاتا ہے، اور آپ کی تحریر کا انتظار بھی رہتا ہے-بہت شکریہ