اُس کا نام رباب ہے۔ میرے اپارٹمنٹ کی پہلی کھڑکی کے بالکل سامنے نظر آنے والی اس سلور کار میں بیٹھی وہ اپنے سیل سے میرے فون کو بار بار ری ڈائیل کررہی ہے۔ پانچویں منزل کے اس سٹوڈیو اپارٹمنٹ سے مجھے اسکے دبائے ھندسے نہیں دکھتے لیکن بیل وقفے وقفے سے مسلسل بج رہی ہے۔ اور پھر روز یہی ہوتا ہے ۔۔ یہی رباب کا آنا اور فون پر مجھے بیپ دینا۔۔
اپڈیٹ:
یہ تحرير اور دوسرے افسانے پڑھنے کے لیے ذیل کی پوسٹ میں کتاب کا ڈاؤنلوڈ لنک دیکھیں ۔
پڑھ کر اچھا لگا۔
رافعہ آپنے جو ربط دیا وہ نہیں کھُل رہا۔ اگر آپکے پاس مواد ہے تو آپ اپنے بلاگ پر ایک نیا تعارفی صفحہ بنا سکتی ہیں
اوہ اچھا پھر تو ہمیں اسے بلاگ پر تعارف کے نام سے ایک صفحہ کا انتظار بھی رہے گا۔ تو کب آرہا ہے پھر اس بلاگ کا نیا صفحہ تعارف کے نام سے؟
بلاگنگ میں ہر طرح کی مدد کیلئے تمام اُردو بلاگرز آپکے ساتھ ہیں ان شاءاللہ۔ کسی بھی طرح کی بلاگنگ مدد کیلئے تکلف مت کیجئیے گا۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ
پہلی مرتبہ آپکے بلاگ پر آمد ہوئی، ماشاءاللہ خوب تھیم اور خوب تحریر۔ ہمیں تو کوئی افسانہ نگار معلوم ہوتا ہے یہاں کا لکھاری۔ بلاگستان میں اِک نیا اضافہ دیکھ کر دِلی خوشی ہوئی۔
بہت اچھی کوشش نہین۔۔۔۔۔۔۔۔
بہترین کوششیں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا!
ہر تحریر ایک سے بڑھ کر ایک ہے،
🙂
پہلے تو اچھا لگا کہ بلاگ پر نئے آنے والوں مین خواتین بھی آ رہی ہیں ۔۔۔۔ اور بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا ۔۔۔ بہت اچھی کوشش ہے ۔اللہ پاک زور قلم اور ذیادہ۔
رہتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے
بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے
اچھا افسانہ ہے
یہ افسانہ ہے یا حقیقت؟