
پہلے انقلاب پر تو مجھے لگا کہ آدمی اٹھے شاید، دوسرے پہ ۔۔ ہاں ہوجاتا ہے۔۔ تیسرے پہ۔۔ بس یہ پہ در پہ انقلاب نے پیٹرن آوٹ کر دیا۔۔ مانا سو سال محنت کرکے لانے والے انقلاب کا زمانہ نہیں ہے، لیکن دہشت پھیلاؤ، ٹائر جلاؤ، لنگر کھلاؤ، پارٹی بناؤ ۔۔ فوج سے لڑاؤ قسم کا انقلاب بھی دنیا کے کونے کونے میں برپا ہوجانے سے ثابت ہوتا ہے انسان اپنی نفسیات کو سو سال پہلے کی نسبت بہتر سمجھ چکا ہے ایسے میں سدھائے ہوئے تہذیب یافتہ پالتو کی سند کا حقدار ہے کہ کیسے چند کلیں دبانے سے وہ وہی کرنے لگتا ہے جس کی اس سے توقع کی جاتی ہے۔
"ابھی ویسے ایسے لگ رہا ہے کسی نے جلدی میں انقلاب کا ڈبہ کھولتے ہوئے اسے فرش پرگرا دیا ہے"
كمال كرديا صاحب