تازہ تحاریر
تنقید کا تحفہ

کچھ سوشل میڈیا ایپ اپنے فوٹو فلٹر کے ساتھ آتی ہیں، لیکن زیادہ تر لوگ فون فوٹو ایپ ہی سے تصاویر کو فلٹر اور ایڈٹ کر لیتے ہیں۔ اگر بہت ہی زیادہ شوق ہو تو یورکیم یا فن کیم وغیرہ۔ اصل مقصد یہ ہوتا کہ تصویر سے غیر ضروری حصے نکال کر اس کو بہترین طریقے سے پیش کیا جائے تاکہ زیادہ پسندیدہ ہو۔ میں سوچتی ہوں گفتگو کا بھی ایک فلٹر ہونا چاہیے جو باتوں سے غیر ضروری فقرے حذف کردے اور صرف پسندیدہ حصے باقی رہ جائیں۔
غیروں کی، اپنوں کی باتیں

(لوگ کیا کہیں گے ۳)
لوگوں کی رائے کی کئی اقسام ہو سکتی ہیں۔ جیسے عوام کی رائے، قانون کی رائے، ماہرین کی رائے ۔غیروں کی رائے۔ اپنوں کی رائے ۔ ذہنی طور پر ہم قانون اور ماہرین وغیرہ کی رائے کو ماننے میں زیادہ پس و پیش نہیں کرتے کیونکہ سب ہی مان رہے ہوتے ہیں اور نہ ماننے کے نتائج و عواقب بھی پیش نظر ہوتے ہیں۔لیکن ہمارے اپنے (جیسے گھر خاندان والے دوست احباب) اور غیر (جیسے اگلے محلے والے دفتر و کاروبار والے، دوسرے جاننے والے، کزن کا سسرال) جب کوئی رائے دیتے ہیں تو اس کی اہمیت ہمارے دماغ میں مختلف طریقے سے رجسٹر ہوتی ہے۔
لوگ کیا کہیں گے ۲

کچھ لوگ اپنے تصورات یا اپنے ڈراؤنے خوابوں میں اب بھی لوگوں کو دروازوں کی آڑ میں کھڑے ہو تاکنے۔ آنکھوں آنکھوں میں اشاروں سے یا سرگوشیوں میں اپنے بارے میں باتیں کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ بظاہر ان کے تصورات کا سوفٹویئر اپڈیٹ ہوئے کافی روز ہو چکے ہیں۔ اتنے مصروف دور میں کس کے پاس یہ سب کرنے کا وقت ہوتا ہے؟
لوگ کیا کہیں گے ۔۱

لوگ کیا کہیں گے جاننے کا مجھے ہمیشہ سے شوق رہا ہے۔ اسی لیے جب بھی میں سنتی ہوں لوگ کیا کہیں گے تو میں پوری کوشش کرتی ہوں کہ اس کی کچھ تفصیلات حاصل کرسکوں لیکن مجھے بال کی کھال اتارنے کا الزام دے کر اکثر لوگ چپ کرادیتے ہیں۔ ورنہ ایک سخت سی نظر مجھ پر ڈال کر کہتے ہیں کیسا احمقانہ سوال ہے۔ آپ کو خود نہیں معلوم کیا؟ مجھے معلوم تو نہیں لیکن میں لوگوں کی طرف سے کچھ نہ کچھ اچھا برا سوچ کر خود کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہوں۔ اور یہی لوگوں کی باتوں کے خوف کا پہلا مسئلہ ہے۔
Continue reading “لوگ کیا کہیں گے ۔۱” →
Continue reading “لوگ کیا کہیں گے ۔۱” →
ً
دریچوں میں جگنو
میری نئی کتاب دریچوں میں جگنو پرسکوت اندھیرے سے پرسکون روشنی تک کے سفر کا احوال ہے۔ خیال کے سفر میں سمجھنے اور پرکھنے کے دوران غلطی کا امکان موجود رہتا ہے۔ لیکن لکھے ہوئے لفظوں میں روشنی کی تلاش حیات بخش ہے۔ شائد ان لفظوں کو پڑھتے ہوئے آپ کی راہ بھی کچھ دیر کے لیے منور ہو جائے۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ نے پڑھنے کے لیے اس کتاب کا انتخاب کیا۔ اللہ کرے آپ کا اور کتاب کا رشتہ ہمیشہ قائم رہے۔
رافعہ خان
۱۴ اگست ۲۰۲۳
کتاب ایپل بک سے ڈاؤنلوڈ کریں
Download From Apple Books
پاپولر پوسٹس
کمیونیکیشن گیپ
ویسے تو جس ساحلی علاقے میں میں مقیم ہوں درختوں کی کثرت کی وجہ سے حبس زدہ گرم دنوں میں یہ عام سی بات ہے۔۔ سانس کا لمحے دو لمحے...
مدار
اُس کا نام رباب ہے۔ میرے اپارٹمنٹ کی پہلی کھڑکی کے بالکل سامنے نظر آنے والی اس سلور کار میں بیٹھی وہ اپنے سیل سے میرے فون کو بار بار...
بصیرہ عنبرین۔۔ یہ سچ مچ تم ہو یار بہت زیادہ خوشی ہوئی تم کو یہاں پر دیکھ کر۔ اور میں…
رافعہ خان آج بھی اتنا اچھا لکھ رہی ہیں جیسا کہ شروعات میں لکھ رہی تھیں۔ ماشاءاللہ
یہ کتاب بہت اچھی ہے۔رافعہ کی پہلی کتاب کی طرح۔کیا مصنفہ کا اصل نام رافعہ وحید یے۔
'A blessing cannot be saved.' Aptly put. Jo buray waqt kay liye jama' karay ga, uss par bura waqt aaye…
"ابھی ویسے ایسے لگ رہا ہے کسی نے جلدی میں انقلاب کا ڈبہ کھولتے ہوئے اسے فرش پرگرا دیا ہے"كمال…
میجیکل!!!!کم الفاظ میں اتنا خوبصورت لکھنا، بہت کم لوگوں کے پاس صلاحیت ہوتی ہےلکھتی رہئیے :)
ماشاءاللہ کافی اچھا لکھ لیتی ہو آپ۔ آپ جس طرز کا لکھتی ہو بہت خوب اور عمدہ لکھتی ہو لیکن…
سوائے اس کے کچھ اور نہیں کہا جا سکتا کہ "بہترین"۔۔۔ اور "بہت ہی عمدہ"۔۔۔
بہت خوب۔۔۔ آپکی پچھلی تحریر بھی کُچھ طویل ہونے کے باوجود پڑھ کر مزہ آیا اور یہی حال اس مرتبہ…
محترمہ رافعہآپ کا بلاگ بہت سنجیدگی سے پڑھا جاتا ہے، اور آپ کی تحریر کا انتظار بھی رہتا ہے-بہت شکریہ